ایک بار کی بات ہے، کسی دیناڗار شہر میں ایک بادشاہ تھا۔ یہ بادشاہ بہت خوبصورت اور عدل مند شخصیت رکھتا تھا۔ لوگ اسے بہت پیار کرتے اور اُلے مسئلوں کے حل کے لئے اپنا راجہ دھرم پر بھروسہ رکھتے تھے۔


ایک دن، بادشاہ کو محاکمہ کی حاجت تھی جو ایک میرچی کے برابر لڑکے کے معاملے پر سنا جانا تھا۔ بادشاہ چند عبوروائیں دیکھ کر متاثر ہوگیا تھا۔ لڑکا مشکلات اور گرفتاری کا شکار تھا لیکن جواب نہیں دیا گیا تھا۔ بادشاہ نے جج سے پوچھا کہ وہ کیوں جواب نہیں دے رہے۔ جج نے


جواب دِیا کہ اس کے پاس لالچ کی۔ بادشاہ شدید رنج و غم میں آیا کیونکہ بادشاہ کو راج ضمیر اور ایتھیک اصولوں پر بہت بھروسہ تھا۔


بادشاہ نے فوراً اُلّے ہوئے ایک راستے پر حکم دیا، جسکا مطلب تھا کہ جگہ بدل کر کسی اور بادشاہ کو بناؤ۔ وہ لڑکا اپنی زمین کے دوران اوراتوں کو روپ دنے لگا۔ ہر کوئی کسی چیز میں مشغول تھا: کوئی آئنہ دیکھ رہا تھا، کوئی پرچی پر میکیاج کر رہا تھا۔ لوگ مشکوک تھے که بادشاہ کے جسم کے ٹکڑے ہیں۔

  

ایک عام دن، ایک اِستقبال تاتی ہوئی، جس میں ایک سیر کرنے والا شاخسا نے شہر کا دہشتگرد قتل کرنے کی دھمکی دے دی تھی۔ بادشاہ نے خوفزدہ خاطری کی اور کہا کہ وہ اُسے خود پکڑنے کا وعدہ کرتا ہے۔


رات کے وقت، بادشاہ نے اسٹیشن پر ڈِڑلری کرکے قدم رکھا۔ خود کو چھوٹی طور پر ترتیب دے کر، بادشاہ نے کہا: "شاخسا! میں تم کو پکڑ لیا ہوں، میرے دوسرے خادم میرے عوانین کو لے چلاو۔"


شاخسا تحفظ کرتے ہوئے، بادشاہ کو مطمئن کیا کہ اُسنے عوانین کو آگاہ کیا ہے اور آنے کے لیے تیاریاں کی ہیں۔ بادشاہ اپنے عوانین کی لمبی لائن سے آگے تھے۔ شاخسا نے آواز لگائی: "یہ لوگ کہ رہ رہ کر پگھل گئے ہیں! اگلے جھنڈے تک پہنچنے میں 20 منٹ لگیں گے۔"


بادشاہ بہت خوش ہوا کیونکہ یہ اُسکے راجعوں نے بھی بدل دیا۔ جب اس نے لوگوں کو اڑایا، وہ واقعی بیدار ہوگئے اور یقین کرنے لگے کہ وہ بادشاہ ہمیشہ کے لئے واپس آگیا ہے۔ اس روشنی کے ساتھ، قریبی لڑکے کو واپس بہتعجز عام کیا گیا۔ بادشاہ نے اُن سب کو آکرشک کرکے کہا کہ تمام نے کیمروں کی مدد سے شاخسا کو دیکھا اور وہ مشکل حل کیا۔ بادشاہ نے ان سب کو کہا: "اب سے، ہمیشہ سینوں سانشن پاؤ۔ جو میں ہوں، صرف وہی میرے راکسبورٹس میں مشغول ہوسکتا ہے۔"