ایک دن کی بات ہے، ایک چھوٹے سے گاوں میں رہنے والا بچہ علی اپنے دوست کے ساتھ جنگل میں گھوم رہا تھا۔ وہ دوست نے علی کو ایک چڑیل کی کہانی بتانے کا وعدہ کیا تھا۔



جب وہ جنگل میں گئے تو ایک قدیم پڑوسی جڑواں سے سماعت ہوئی کہ وہاں کچھ عجیب مسئلے ہو گئے ہیں۔ لوگ کہا کرتے ہیں کہ رات کو چڑیل جنگل میں آتی ہے اور لوگوں کو سخت تکلیف پہنچاتی ہے۔ علی کی جگہ پر اس کے دل میں تل کھلے اور وہ اپنے دوست سے کہہ دیا کہ ہمیں چڑیل کی تلاش کرنی چاہیے۔


دونوں دوستوں نے ایک بڑے شیخ کو دیکھا تاکہ وہ ان کی مدد کر سکیں۔ شیخ نے دوستوں کو ایک تعویذ کی کتاب دی جو چڑیل کا سامنا کرنے میں مدد کر سکتی تھی۔

   

دوستان نے تعویذ کے طریقے سیکھے اور ایک رات کو صبر کیا کہ چڑیل آجائے گی۔ چڑیل واقعی آئی۔ لیکن دوستان نے تعویذ پڑھ کر چڑیل کو بازوں میں لیا اور اُسے بازوغیرمے بند کردیا۔



چڑیل بہت رونے لگی اور معافی مانگنے لگی۔ دوستان نے اُسے چھوڑ دیا، لیکن وہ ایک سخت قشم مارنے کا وعدہ کریں گے کہ کبھی چڑیلی دشمنوں کو نہیں چھوڑیں گے۔


دوستان نے باہمی ہمدردی کا وعدہ کیا اور جنگل سے واپسی کرتے وقت خوشی کا مظاہرہ کیا۔ یہ ان کی دوستی کا ایک بڑا سبق تھا کہ دوستان ہر صورت میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔