ایک گاو اور بکری دوست تھے۔ وہ دونوں ہمیشہ ساتھ رہتے
تھے اور مل کر چراغ جلاتے تھے۔ دوستی میں بہت پیار تھا۔ انہیں ایک چھوٹا سا گاؤں ملا جہاں ہر روز لوگ ان سے دودھ، دہی اور پنیر خریدتے تھے۔
ایک دن ، رات کے وقت بکری لپٹیاں مارکر بهت عجیب اور بے چین نظر آئی۔ گاو بکری کو پوچھا کہ کیا بات ہے؟ بکری اپنی پریشانی بتانے لگی کہ وہ بہت خوشیاں لیتی ہیں لیکن وہ اپنی زندگی پر بہت غصے ہیں۔ گاو نے پوچھا کہ کونسی خوشیاں ہیں اور کیوں تم غصہ کرتی ہو؟ بکری نے جواب دیا کہ لوگ میرے دودھ و دہی کے لئے مجھے ہر روز پیٹتے ہیں اور میرے بچے کو مجبور کرتے ہیں وہ کبھی بھی میری جان و بچے کی رضا کو نہیں سمجھتے۔ مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔
گاو نے سمجھایا کہ دوستی میں صرف مثبت خوشیاں شامل کرنے چاہیے۔ مثبت ہوسکتی ہوا کے امواج تم کو احساس کرتے ہیں۔ اگر تم لوگوں کی مدد کرتی ہو تو یہ تمہیں خوش کرتی ہے۔ انصاف کے ساتھ بات کرو اور اپنی رضا کے بارے میں محترمانہ طریقے سے بتاؤ۔ دوستی اسکو بہت افضل رکھتی ہے۔
بکری نے گاو کے کہہ کے عمل کیا اور اگلے دن سے وہ لوگوں کو اپنے دودھ و دہی کے لئے مشکور ہونے لگی۔ وہ جو لوگ کم دھند حوالہ دیتے تھے ان کو نظر انداز کرتی اور اپنی مال تنقید کرنے والوں کو راضی کرنے کی کوشش کرتی۔ نتیجتاً وہ بہت خوش ہوئی اور اب وہ دن بھر مسرت بھری روشنیوں سے منور ہوتی تھی۔
اس کہانی سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ خوش ہونے کے لئے ہمیں دوسروں کی خدمت کرنی چاہیے اور انصاف کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ صرف ایک چھوٹی سی تبدیلی کی وجہ سے بہت سی خوشیاں حاصل ہوسکتی ہیں اور ہماری زندگی بہتر بن سکتی ہے۔

0 Comments